EN हिंदी
مرا جینا گواہی دے رہا ہے | شیح شیری
mera jina gawahi de raha hai

غزل

مرا جینا گواہی دے رہا ہے

شبنم شکیل

;

مرا جینا گواہی دے رہا ہے
ابھی مجھ کو بہت کچھ دیکھنا ہے

مجھے حیرت ہے اپنے دل پہ کتنی
یہ میرا ساتھ اب تک دے رہا ہے

کوئی روکے روانی آنسوؤں کی
یہ دریا بہتے بہتے تھک گیا ہے

میں پڑھ سکتی ہوں ان لکھے کو اب بھی
یہ کشف ذات ہے یا اک سزا ہے

یہ کیسی سازشوں میں گھر گئی ہوں
مجھے مجھ سے چھپایا جا رہا ہے

گھنے جنگل میں تنہا چھوڑ کر وہ
کہیں سے چھپ کے مجھ کو دیکھتا ہے

خدا حافظ مرے اے ہم نشینو
کہ مجھ کو تو بلاوا آ گیا ہے

کشش کچھ اس قدر ہے مجھ میں شبنمؔ
سمندر میری جانب بڑھ رہا ہے