EN हिंदी
جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ | شیح شیری
jab se KHat hai siyah-Khaal ki thang

غزل

جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ

میر تقی میر

;

جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ
تب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ

بات عمل کی چلی ہی جاتی ہے
ہے مگر اوج بن عنق کی ٹانگ

بن جو کچھ بن سکے جوانی میں
رات تو تھوڑی ہے بہت ہے سانگ

عشق کا شور کوئی چھپتا ہے
نالۂ عندلیب ہے گلبانگ

اس ذقن میں بھی سبزی ہے خط کی
دیکھو جیدھر کنوئیں پڑی ہے بھانگ

کس طرح ان سے کوئی گرم ملے
سیم تن پگھلے جاتے ہیں جوں رانگ

چلی جاتی ہے حسب قدر بلند
دور تک اس پہاڑ کی ہے ڈانگ

تفرہ باطل تھا طور پر اپنے
ورنہ جاتے یہ دوڑ ہم بھی پھلانگ

میں نے کیا اس غزل کو سہل کیا
قافیے ہی تھے اس کے اوٹ پٹانگ

میرؔ بندوں سے کام کب نکلا
مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ