EN हिंदी
آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد | شیح شیری
aawegi meri qabr se aawaz mere baad

غزل

آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد

میر تقی میر

;

آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
ابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعد

جینا مرا تو تجھ کو غنیمت ہے نا سمجھ
کھینچے گا کون پھر یہ ترے ناز میرے بعد

شمع مزار اور یہ سوز جگر مرا
ہر شب کریں گے زندگی ناساز میرے بعد

حسرت ہے اس کے دیکھنے کی دل میں بے قیاس
اغلب کہ میری آنکھیں رہیں باز میرے بعد

کرتا ہوں میں جو نالے سرانجام باغ میں
منہ دیکھو پھر کریں گے ہم آواز میرے بعد

بن گل موا ہی میں تو پہ تو جا کے لوٹیو
صحن چمن میں اے پر پرواز میرے بعد

بیٹھا ہوں میرؔ مرنے کو اپنے میں مستعد
پیدا نہ ہوں گے مجھ سے بھی جانباز میرے بعد