EN हिंदी
ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے | شیح شیری
humne jaana tha suKHan honge zaban par kitne

غزل

ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے

میر تقی میر

;

ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے
پر قلم ہاتھ جو آئی لکھے دفتر کتنے

میں نے اس اس صناع سے سر کھینچا ہے
کہ ہر اک کوچے میں جس کے تھے ہنر ور کتنے

کشور عشق کو آباد نہ دیکھا ہم نے
ہر گلی کوچے میں اوجڑ پڑے تھے گھر کتنے

آہ نکلی ہے یہ کس کی ہوس سیر بہار
آتے ہیں باغ میں آوارہ ہوئے پر کتنے

دیکھیو پنجۂ مژگاں کی ٹک آتش دستی
ہر سحر خاک میں ملتے ہیں در تر کتنے

کب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیے
اس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے

عمر گزری کہ نہیں دو آدم سے کوئی
جس طرف دیکھیے عرصے میں ہیں اب خر کتنے

تو ہے بیچارہ گدا میرؔ ترا کیا مذکور
مل گئے خاک میں یاں صاحب افسر کتنے