EN हिंदी
ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں | شیح شیری
hijran ki koft khinche be-dam se ho chale hain

غزل

ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں

میر تقی میر

;

ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں
سر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں

جویں رہیں گی جاری گلشن میں ایک مدت
سائے میں ہر شجر کے ہم زور رو چلے ہیں

لبریز اشک آنکھیں ہر بات میں رہا کیں
رو رو کے کام اپنے سب ہم ڈبو چلے ہیں

پچھتائیے نہ کیوں کر جی اس طرح سے دے کر
یہ گوہر گرامی ہم مفت کھو چلے ہیں

قطع طریق مشکل ہے عشق کا نہایت
وے میرؔ جانتے ہیں اس راہ جو چلے ہیں