EN हिंदी
ملا نہ کام کوئی عمر بھر جنوں کے سوا | شیح شیری
mila na kaam koi umr-bhar junun ke siwa

غزل

ملا نہ کام کوئی عمر بھر جنوں کے سوا

حسن نعیم

;

ملا نہ کام کوئی عمر بھر جنوں کے سوا
تمام عیش میسر رہے سکوں کے سوا

لگی وہ آگ کہ دیوار و در بھی چل نکلے
کوئی مقیم نہیں گھر میں اب ستوں کے سوا

میں اس کے جسم کی بیکل پکار سن بھی چکا
اب اس کی آنکھ میں رکھا ہے کیا فسوں کے سوا

پڑی وہ دھوپ کہ سب رنگ پڑ گئے پیلے
بچا نہیں ہے کوئی سرخ میرے خوں کے سوا

تمام فن کی بنا مد و جزر دل ہے نعیمؔ
کہ شعر و نغمہ میں کیا موج اندروں کے سوا