EN हिंदी
ملا بھی کیا اسے توہین رنگ و بو کر کے | شیح شیری
mila bhi kya use tauhin-e-rang-o-bu kar ke

غزل

ملا بھی کیا اسے توہین رنگ و بو کر کے

محسن احسان

;

ملا بھی کیا اسے توہین رنگ و بو کر کے
گیا چمن سے چمن کو جو بے نمو کر کے

تھے خوش گماں کہ کسی خوش سخن سے واسطہ ہے
بہت ملال ہوا اس سے گفتگو کر کے

تھی سارے شہر کو بیمارئ گراں گوشی
سو چپ وطیرہ کیا ہم نے ہاؤ ہو کر کے

ہماری صبحوں کے بیع نامے لکھنے والوں نے
ہمیں سیاہ کیا خود کو سرخ رو کر کے

سگان کوچہ و بازار سے رہو ہشیار
رہائی دیتے ہیں محسنؔ لہو لہو کر کے