EN हिंदी
مل گیا شرع سے شراب کا رنگ | شیح شیری
mil gaya shara se sharab ka rang

غزل

مل گیا شرع سے شراب کا رنگ

اکبر الہ آبادی

;

مل گیا شرع سے شراب کا رنگ
خوب بدلا غرض جناب کا رنگ

چل دیئے شیخ صبح سے پہلے
اڑ چلا تھا ذرا خضاب کا رنگ

پائی ہے تم نے چاند سی صورت
آسمانی رہے نقاب کا رنگ

صبح کو آپ ہیں گلاب کا پھول
دوپہر کو ہے آفتاب کا رنگ

لاکھ جانیں نثار ہیں اس پر
دیدنی ہے ترے شباب کا رنگ

ٹکٹکی بندھ گئی ہے بوڑھوں کی
دیدنی ہے ترے شباب کا رنگ

جوش آتا ہے ہوش جاتا ہے
دیدنی ہے ترے شباب کا رنگ

رند عالی مقام ہے اکبرؔ
بو ہے تقویٰ کی اور شراب کا رنگ