مل گیا جب وہ نگیں پھر خوبیٔ تقدیر سے
دل کو کیا کیا وحشتیں ہیں سنگ کی تاثیر سے
جلتا بجھتا ایک جگنو کی طرح تیرا خیال
بس یہی نسبت ہے اپنی رات کو تنویر سے
پھر ہوا کے ہاتھ پر بیعت کو دل بیتاب ہے
آنکھ پھر روشن ہوئی ہے گرد کی تحریر سے
شب نہ جانے آنکھ پر کیا راز افشا کر گئی
خواب چکناچور ہو کر رہ گئے تعبیر سے
خود فریبی ہے کہ اس کو آگہی کا نام دوں
اپنی قامت ناپتا ہے آج وہ شمشیر سے
اس شکستہ گھر کا گرنا یوں لگا مجھ کو نظامؔ
ٹوٹ جائے اک کڑی جیسے کسی زنجیر سے
غزل
مل گیا جب وہ نگیں پھر خوبیٔ تقدیر سے
شعیب نظام

