EN हिंदी
مل گیا دل نکل گیا مطلب | شیح شیری
mil gaya dil nikal gaya matlab

غزل

مل گیا دل نکل گیا مطلب

حسن بریلوی

;

مل گیا دل نکل گیا مطلب
آپ کو اب کسی سے کیا مطلب

حسن کا رعب ضبط کی گرمی
دل میں گھٹ گھٹ کے رہ گیا مطلب

نہ سہی عشق دکھ سہی ناصح
تجھ کو کیا کام تجھ کو کیا مطلب

مژدہ اے دل کہ نیم جاں ہوں میں
اب تو پورا ہوا ترا مطلب

اپنے مطلب کے آشنا ہو تم
سچ ہے تم کو کسی سے کیا مطلب

آتش شوق اور بھڑکی ہے
منہ چھپانے کا کھل گیا مطلب

کچھ ہے مطلب تو دل سے مطلب ہے
مطلب دل سے ان کو کیا مطلب

ان کی باتیں ہیں کتنی پہلو دار
سب سمجھ لیں جدا جدا مطلب

اس کو گھر سے نکال کر خوش ہو
کیا حسنؔ تھا رقیب کا مطلب