EN हिंदी
میری سوچ لرز اٹھی ہے دیکھ کے پیار کا یہ عالم | شیح شیری
meri soch laraz uTThi hai dekh ke pyar ka ye aalam

غزل

میری سوچ لرز اٹھی ہے دیکھ کے پیار کا یہ عالم

عارف عبدالمتین

;

میری سوچ لرز اٹھی ہے دیکھ کے پیار کا یہ عالم
تیری آنکھوں سے ٹپکا ہے آنسو بن کر میرا غم

دل کو ناز ہے سلجھاؤ پر لیکن میں نے دیکھا ہے
سلجھانے سے اور الجھا ہے تیری زلف کا اک اک خم

دن کے بولتے ہنگامے میں اکثر سویا رہتا ہے
کروٹ لے کر جاگ اٹھتا ہے رات کی چپ میں تیرا غم

ہجر کے سنولائے لمحوں میں آس بھی تنہا چھوڑ گئی
کس سے پوچھوں کون بتائے رات ہوئی ہے کتنی کم

تیری دھن میں تجھ سے بھی شاید آگے جا نکلا ہوں میں
تیرے پہلو میں بیٹھا ہوں پھر بھی آنکھیں ہیں پر نم

تیرا غم ہم دیوانوں کو کس عالم میں چھوڑ گیا
ایک زمانہ ہم سے خفا ہے ایک جہاں سے ہم برہم