EN हिंदी
میری پہچان ہے کیا میرا پتہ دے مجھ کو | شیح شیری
meri pahchan hai kya mera pata de mujhko

غزل

میری پہچان ہے کیا میرا پتہ دے مجھ کو

امیر قزلباش

;

میری پہچان ہے کیا میرا پتہ دے مجھ کو
کوئی آئینہ اگر ہے تو دکھا دے مجھ کو

تجھ سے ملتا ہوں تو اکثر یہ خیال آتا ہے
اس بلندی سے اگر کوئی گرا دے مجھ کو

کب سے پتھر کی چٹانوں میں ہوں گمنام و اسیر
دیوتاؤں کی طرح کوئی جگا دے مجھ کو

ایک آئینہ سر راہ لیے بیٹھا ہوں
جرم ایسا ہے کہ ہر شخص سزا دے مجھ کو

ان اندھیروں میں اکیلا ہی جلوں گا کب تک
کوئی شے تو بھی تو خورشید نما دے مجھ کو