میرے سینے میں کچھ زیر و زبر ہے
چمن میں غالباً وقت سحر ہے
چلا جاتا ہوں اکثر شہر والو
بیاباں میں بھی میرا ایک گھر ہے
جو چہرے پر نظر آتی ہے میرے
میری رنگت نہیں گرد سفر ہے
کوئی ٹکتا نہیں دل میں زیادہ
یہ گویا گھر نہیں ہے رہ گزر ہے
نظر آتے ہیں بس اعمال سب کو
میرے احوال پر کس کی نظر ہے
اگر انور شعور| ایسا کرے تو
نظر انداز کر دینا بشر ہے
غزل
میرے سینے میں کچھ زیر و زبر ہے
انور شعور

