EN हिंदी
میرے سامنے میرے گھر کا پورا نقشہ بکھرا ہے | شیح شیری
mere samne mere ghar ka pura naqsha bikhra hai

غزل

میرے سامنے میرے گھر کا پورا نقشہ بکھرا ہے

حکیم منظور

;

میرے سامنے میرے گھر کا پورا نقشہ بکھرا ہے
کاش کوئی ایسا ہوتا جو دیکھے کیا کیا بکھرا ہے

میں نے چاہا بیتے برسوں کو بھی مٹھی میں بھر لوں
اس کوشش میں میرے آج کا لمحہ لمحہ بکھرا ہے

پہلے اس کے سائے کے رسیا لوگ تھے اب یہ کہتے ہیں
یہ بھی کوئی پیڑ ہے جس کا پتا پتا بکھرا ہے

شاید ایسے ہی بے منزل رہنا اپنی قسمت ہے
ہم کس رستے کو اپنائیں ہر اک رستہ بکھرا ہے

اس کی کیا تعبیر کروں میں کچھ تو ہی سمجھا منظورؔ
میں نے خواب میں دیکھا صحرا میں اک دریا بکھرا ہے