EN हिंदी
میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی | شیح شیری
mere rone pe ye hansi kaisi

غزل

میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی

عزیز لکھنوی

;

میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی
اے ستم گر یہ دل لگی کیسی

کھل گئی پھر کوئی رگ دل کیا
دیدۂ خشک ہیں نمی کیسی

ہوش ہے تجھ کو خاک کے پتلے
یہ تمرد یہ سرکشی کیسی

تھا یہ اک امتحاں طبیعت کا
ورنہ ناصح سے دوستی کیسی

رو رہا ہوں اسی تصور میں
دی تھی یہ مجھ کو زندگی کیسی

اب تو اس در تک آ گئے ہو عزیزؔ
سنبھلو سنبھلو یہ بے خودی کیسی