EN हिंदी
میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگ | شیح شیری
mere jaanib se use ja ja ke samjhate hain log

غزل

میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگ

مرزا آسمان جاہ انجم

;

میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگ
وہ نہیں سننے کا ضد بیکار دلواتے ہیں لوگ

شعلہ خو میرا سنے مجھ دل جلے کا حال کیوں
آگ میں آگ اور بھی ناحق لگا آتے ہیں لوگ

میرے مرنے پر انہیں کیوں رشک سے پوچھو کوئی
کیوں سر بالیں مرے بیکار چلاتے ہیں لوگ

کوئی کہتا ہے تجھے جلاد کوئی سنگ دل
تیری جانب سے مجھے آ آ کے دھمکاتے ہیں لوگ

میں نہ جیتا ہوں نہ مرتا ہوں سسکتا ہوں پڑا
جھوٹ سچ قسمیں تمہارے سامنے کھاتے ہیں لوگ

دوستی کے پردے میں کرتے ہیں مجھ سے دشمنی
تم کو پھر اگلی جفائیں یاد دلواتے ہیں لوگ

تیری محفل میں مرا آنا جو ان کو بار ہے
چھیڑ کر تجھ کو مجھے باتیں ہی سنواتے ہیں لوگ

تم سے اور وعدہ وفا ہو یہ ہمیں باور نہیں
قسمیں دے کر تم کو ناحق جھوٹ بلواتے ہیں لوگ

باز آیا آسماں ان کی ہوا خواہی سے میں
آگ دل کی اور بھی آ آ کے بھڑکاتے ہیں لوگ