EN हिंदी
میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر (ردیف .. ے) | شیح شیری
mere hawas-e-ishq mein kya kam hain muntashir

غزل

میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر (ردیف .. ے)

اکبر الہ آبادی

;

میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر
مجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہے

دل جس کے ہاتھ میں ہو نہ ہو اس پہ دسترس
بے شک یہ اہل دل پہ مصیبت کی بات ہے

پروانہ رینگتا رہے اور شمع جل بجھے
اس سے زیادہ کون سی ذلت کی بات ہے

مطلق نہیں محال عجب موت دہر میں
مجھ کو تو یہ حیات ہی حیرت کی بات ہے

ترچھی نظر سے آپ مجھے دیکھتے ہیں کیوں
دل کو یہ چھیڑنا ہی شرارت کی بات ہے

راضی تو ہو گئے ہیں وہ تاثیر عشق سے
موقع نکالنا سو یہ حکمت کی بات ہے