EN हिंदी
میرے ہمراہ مرے گھر پہ بھی آفت آئی | شیح شیری
mere ham-rah mere ghar pe bhi aafat aai

غزل

میرے ہمراہ مرے گھر پہ بھی آفت آئی

بیخود دہلوی

;

میرے ہمراہ مرے گھر پہ بھی آفت آئی
آسماں ٹوٹ پڑا برق گری چھت آئی

شرم آئی بھی جو اس شوخ کی آنکھوں میں کبھی
شوخیاں کرتی ہوئی ساتھ شرارت آئی

ہجر میں جان ہے دوبھر یہ لکھا تھا ان کو
خط میں لکھی ہوئی مرنے کی اجازت آئی

سوچتا جاتا ہوں رستے میں کہ یہ دوں گا جواب
گفتگو ان سے اگر غیر کی بابت آئی

پھر ہر اک شعر میں کچھ درد کا پاتا ہوں اثر
پھر کہیں حضرت بیخودؔ کی طبیعت آئی