EN हिंदी
میرا جذبہ کہ جو خود فہم ہے خود کام نہیں | شیح شیری
mera jazba ki jo KHud-fahm hai KHud-kaam nahin

غزل

میرا جذبہ کہ جو خود فہم ہے خود کام نہیں

جمیلؔ مظہری

;

میرا جذبہ کہ جو خود فہم ہے خود کام نہیں
پختہ مغزان جنوں کی ہوس خام نہیں

صاف کہتا ہوں کنایہ نہیں الہام نہیں
کیا ہو آرام سے دنیا تجھے آرام نہیں

تھک گئے کیا مہ و انجم کے شکاری تیرے ہاتھ
آج کیوں ایک ستارہ بھی تہہ دام نہیں

تیرگی وقت کی سمٹی ہوئی اک خال میں ہے
ذہن اک حال میں ہے صبح نہیں شام نہیں

دن جوانی کا ڈھلا یعنی ہوئی شام مگر
تم وہ سورج ہو کہ جس پر اثر شام نہیں

کیا کرے قیس کہ ہے دھوپ ہی صحرا کی پسند
سایۂ گیسوئے لیلیٰ میں بھی آرام نہیں

مظہریؔ معتکف جرۂ انکار تو ہے
مظہریؔ بے خبر کلفت ایام نہیں