EN हिंदी
میرا بچپن ہی مجھے یاد دلانے آئے | شیح شیری
mera bachpan hi mujhe yaad dilane aae

غزل

میرا بچپن ہی مجھے یاد دلانے آئے

اصغر مہدی ہوش

;

میرا بچپن ہی مجھے یاد دلانے آئے
پھر ہتھیلی پہ کوئی نام لکھانے آئے

آ کے چپکے سے کوئی چیخ پڑے کانوں میں
گدگدانے نہ سہی آئے ڈرانے آئے

لوٹ لے آ کے مری صبح کی میٹھی نیندیں
میں کہاں کہتا ہوں وہ مجھ کو جگانے آئے

میرے آنگن میں نہ جگنو ہیں نہ تتلی نہ گلاب
کوئی آئے بھی تو اب کس کے بہانے آئے

دیر تک ٹھہری رہی پلکوں پہ یادوں کی برات
نیند آئی تو کئی خواب سہانے آئے