EN हिंदी
مہر و ماہ بھی لرزاں ہیں فضا کی بانہوں میں | شیح شیری
mehr-o-mah bhi larzan hain faza ki banhon mein

غزل

مہر و ماہ بھی لرزاں ہیں فضا کی بانہوں میں

سرور بارہ بنکوی

;

مہر و ماہ بھی لرزاں ہیں فضا کی بانہوں میں
اہل دل خراماں ہیں کیسی شاہراہوں میں

بے کسی برستی ہے زندگی کے چہرے سے
کائنات کی سانسیں ڈھل رہی ہیں آہوں میں

ضبط غم کی تاکیدیں تھیں سو خیر تھیں لیکن
کچھ تلافیاں بھی تھیں رات ان نگاہوں میں

ہم تجھے بھلا کر بھی کیا سکون پائیں گے
زندگی تو ہے تیرے درد کی پناہوں میں

دشت دل میں اب تیری یاد یوں بھٹکتی ہے
جیسے کوئی دیوانہ شب کو شاہراہوں میں

مدتیں ہوئیں اس نے آنکھ بھر کے دیکھا تھا
پھر رہی ہیں وہ آنکھیں آج تک نگاہوں میں