EN हिंदी
موت کی زد کا خطر ہر فرد کو ہر گھر میں ہے | شیح شیری
maut ki zad ka KHatar har fard ko har ghar mein hai

غزل

موت کی زد کا خطر ہر فرد کو ہر گھر میں ہے

جوشؔ ملسیانی

;

موت کی زد کا خطر ہر فرد کو ہر گھر میں ہے
یہ بڑا اک عیب اے دنیا تری چوسر میں ہے

منزل مقصود پر پہنچے تو پہنچے کس طرح
ڈھونڈنے والا امید و بیم کے چکر میں ہے

شیخ سے کچھ ضد نہیں ہے برہمن سے کد نہیں
دیر و کعبہ دونوں کا جوہر مرے ساغر میں ہے

فکر امروز و غم فردا سراسر بے محل
تو اگر گھر میں ہے تو سب کچھ ہمارے گھر میں ہے

دم بخود فتنے ہیں ان کی شوخئ رفتار سے
ایک سناٹے کا عالم عرصۂ محشر میں ہے

میری ہی روداد وحشت سن کے فریادی ہیں سب
چاک میرے ہی جگر کا دامن محشر میں ہے

نقش الفت مٹ گیا تو داغ لفت ہیں بہت
شکر کر اے دل کہ تیرے گھر کی دولت گھر میں ہے

اس سے کیا مطلب کہ ہے کس کس کے دل میں شوق قتل
دیکھنا یہ ہے کہ دم کتنا ترے خنجر میں ہے

سلسلہ آوارگی کا فہم سے باہر ہے جوشؔ
میں بھی چکر میں ہوں میری عقل بھی چکر میں ہے