EN हिंदी
موت بھی آتی نہیں ہجر کے بیماروں کو | شیح شیری
maut bhi aati nahin hijr ke bimaron ko

غزل

موت بھی آتی نہیں ہجر کے بیماروں کو

رضا عظیم آبادی

;

موت بھی آتی نہیں ہجر کے بیماروں کو
کیا مصیبت ہے ذرا دیکھنا بیچاروں کو

نالۂ دل نے ہمارے تو اثر کم نہ کیا
اور معذوری زیادہ ہوئی دل داروں کو

گو ہیں جنت میں مزے لیک نہیں بھولنے کا
ہونٹ کا چاٹنا تجھ لب کے نمک خواروں کو

اس سے بہتر نہیں کوئی چیز سوا بوسے کے
رونمائی میں جو دیویں ترے رخساروں کو

کبھی رونا کبھی سر دھنا کبھی چپ رہنا
کام کرنے ہیں بہت سے ترے بے کاروں کو

میں نے کاغذ تری تصویر کا عیسیٰ کو دیا
نسخہ جوں دیتے ہیں بیمار سب عطاروں کو

پتھروں ہی پہ تجلی ہے تو ہم غیرت سے
آنکھوں ہی میں لیے مر جائیں گے نظاروں کو

سب نمونہ ہے حقیقت کا جہاں تک ہے مجاز
ناس جو کرتے ہیں گلزاروں کی دیواروں کو

یہ غزل خدمت نواب کی ہے میر رضاؔ
اور اک دوسری کہہ دیجئے ہم کاروں کو