EN हिंदी
موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیں | شیح شیری
mausam-e-gul tere inam abhi baqi hain

غزل

موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیں

سراج الدین ظفر

;

موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیں
شہر میں اور گل اندام ابھی باقی ہیں

اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں
پیچ اے زلف سیہ فام ابھی باقی ہیں

اک سبو اور کہ لوح دل مے نوشاں پر
کچھ نقوش سحر و شام ابھی باقی ہیں

ٹھہر اے باد سحر اس گل نورستہ کے نام
اور بھی شوق کے پیغام ابھی باقی ہیں

اٹھو اے شب کے غزالو کہ سحر سے پہلے
چند لمحات خوش انجام ابھی باقی ہیں

انتظار اے دل و دیدہ کہ ہزاروں اسرار
سائے کی طرح تہہ جام ابھی باقی ہیں

کھول کر کیجئے تشریح سر مصرع زلف
اس نوشتے میں کچھ ابہام ابھی باقی ہیں

اے سہی قد تری نسبت سے سب اونچی قدریں
باوجود روش عام ابھی باقی ہیں

ہم میں کل کے نہ سہی حافظؔ و خیامؔ ظفرؔ
آج کے حافظؔ و خیامؔ ابھی باقی ہیں