EN हिंदी
موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا | شیح شیری
mausam-e-gul sath le kar barq o dam aa hi gaya

غزل

موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا

شکیل بدایونی

;

موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا
یعنی اب خطرے میں گلشن کا نظام آ ہی گیا

وہ نگاہ مست اٹھی گردش میں جام آ ہی گیا
یعنی وقت امتیاز خاص و عام آ ہی گیا

جو اٹھا کرتے تھے اظہار تقدس کے لیے
ان لرزتے کانپتے ہاتھوں میں جام آ ہی گیا

نور و ظلمت پر تبسم کفر و دیں پر قہقہے
زندگی کو نشۂ عمر دوام آ ہی گیا

پاسباں کرتے رہے سرگوشیاں ہی اور کچھ
ان کی محفل سے بہ عز و احترام آ ہی گیا

جانے کن نظروں سے دیکھا آج ساقی نے مجھے
میں تو یہ سمجھا کہ مجھ تک دور جام آ ہی گیا

اب اسی کو زندگی کہہ لیجئے یا صبح مرگ
آنکھ کھولی تھی کہ سر پر وقت شام آ ہی گیا

ترک مے کو مدتیں گزری ہیں لیکن محتسب
ساقئ مہوش اگر آتش بہ جام آ ہی گیا

ہائے یہ عالم کہ اب ترک وفا کے بعد بھی
دل میں ہوک اٹھی نہ اٹھی لب پہ نام آ ہی گیا

لذت رنگینئ اشعار کیا کہئے شکیلؔ
کچھ نہ کچھ احباب کو لطف کلام آ ہی گیا