موجۂ درد سے جسموں میں روانی دے جا
خشک دریاؤں ندی نالوں کو پانی دے جا
کچھ تو سمجھا دے طلسمات شب و روز مجھے
ان حصاروں میں کوئی باب معانی دے جا
ظلمت حبس دل و جاں میں جلا شمع ہوا
تو کہیں ہے تو مجھے اپنی نشانی دے جا
میں سبک سیر سہی مجھ کو تو پر خس نہ بنا
ان ہواؤں میں مجھے تھوڑی گرانی دے جا
نامکمل ہے کوئی باب چمن جن کے بغیر
قصۂ گل کے وہ اوراق خزانی دے جا
کب سے بے آب ہیں آئینے مری آنکھوں کے
ان نئے چہروں میں کچھ شکلیں پرانی دے جا
آگ برساتے ہوئے دن کی حدیں باندھ کبھی
گرم شاموں میں کوئی شام سہانی دے جا
ہر گھڑی دل سے گریزاں ہیں امیدیں شاہیںؔ
ان مکینوں کو ذرا شوق مکانی دے جا
غزل
موجۂ درد سے جسموں میں روانی دے جا
جاوید شاہین

