EN हिंदी
متاع دید تو کیا جانیے کس سے عبارت ہے | شیح شیری
mata-e-did to kya jaaniye kis se ibarat hai

غزل

متاع دید تو کیا جانیے کس سے عبارت ہے

غلام حسین ساجد

;

متاع دید تو کیا جانیے کس سے عبارت ہے
چراغ خواب ہی کچھ دیر روشن ہو غنیمت ہے

کسی کے در پہ دستک دوں تو خود باہر نکلتا ہوں
خبر کیا کون سے گھر تک ترے غم کی ریاست ہے

سنورتے زاویوں میں مسکراتی شکل ہے میری
چٹختے آئنوں میں بھی کوئی میری ہی صورت ہے

ستاروں کے جلو میں اور کتنی دور تک لے جائیں
کہو تو صبح ہونے تک بھلا کتنی مسافت ہے

ندامت پھول سے نازک لبوں پر برف کی سل ہے
اور آنکھوں میں کسی بیتے ہوئے دن کی وضاحت ہے

مرے مشعل جلاتے ہی ستارہ ڈوب کر نکلا
میں سمجھا ہوں مجھے بھی لوٹ جانے کی اجازت ہے

کبھی مجبور کر دینا کبھی مجبور ہو جانا
یہی تیرا وطیرہ ہے یہی تیری سیاست ہے

مجھے اپنی قسم ساجدؔ میں اس کے کام آؤں گا
اگر یہ علم ہو جائے کسے میری ضرورت ہے