مسجود میرا راہنما کیوں نہیں ہوا
تیرا خدا بھی میرا خدا کیوں نہیں ہوا
مجھ کو ضمیر ٹوکتا رہتا ہے ہر گھڑی
لوگوں کا دل بھی شیشہ نما کیوں نہیں ہوا
میں بے دماغ دوست بناتا رہا سدا
مجھ پر اثر خشونتوں کا کیوں نہیں ہوا
ظاہر پرست لوگ مرے آس پاس ہیں
میں بھی انہیں کے جیسا بھلا کیوں نہیں ہوا
مرتے ہیں سب تلاش حیات دوام میں
تیرا صحیفہ آب بقا کیوں نہیں ہوا
بستی کے سارے لوگ جسے پوجتے رہے
میرے لئے وہ فرد خدا کیوں نہیں ہوا
پھرتا رہا گلی گلی تیری تلاش میں
معلوم تیرے گھر کا پتا کیوں نہیں ہوا

غزل
مسجود میرا راہنما کیوں نہیں ہوا
جمال اویسی