EN हिंदी
مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں | شیح شیری
marun to main kisi chehre mein rang bhar jaun

غزل

مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں

احمد ندیم قاسمی

;

مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں
ندیمؔ کاش یہی ایک کام کر جاؤں

یہ دشت ترک محبت یہ تیرے قرب کی پیاس
جو اذن ہو تو تری یاد سے گزر جاؤں

مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے
تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں

ترے جمال کا پرتو ہے سب حسینوں پر
کہاں کہاں تجھے ڈھونڈوں کدھر کدھر جاؤں

میں زندہ تھا کہ ترا انتظار ختم نہ ہو
جو تو ملا ہے تو اب سوچتا ہوں مر جاؤں

ترے سوا کوئی شائستہ وفا بھی تو ہو
میں تیرے در سے جو اٹھوں تو کس کے گھر جاؤں

یہ سوچتا ہوں کہ میں بت پرست کیوں نہ ہوا
تجھے قریب جو پاؤں تو خود سے ڈر جاؤں

کسی چمن میں بس اس خوف سے گزر نہ ہوا
کسی کلی پہ نہ بھولے سے پاؤں دھر جاؤں

یہ جی میں آتی ہے تخلیق فن کے لمحوں میں
کہ خون بن کے رگ سنگ میں اتر جاؤں