منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے
اک شہر جو بستے ہوئے دیکھا ہی نہیں ہے
کچھ منزلیں اب اپنا پتہ بھی نہیں دیتیں
اور راستہ ایسا ہے کہ کٹتا ہی نہیں ہے
اک نقش کہ بن بن کے بگڑتا ہی رہا ہے
اک خواب کہ پورا کبھی ہوتا ہی نہیں ہے
کیا ہم پہ گزرتی ہے تمہیں کیسے بتائیں
تم نے تو پلٹ کر کبھی پوچھا ہی نہیں ہے
اک عمر گنوائی ہے تو پھر دل کو ملا ہے
وہ درد کہ جس کا کوئی چارہ ہی نہیں ہے
یہ عشق کی وادی ہے ذرا سوچ سمجھ لو
اس راہ پہ پاؤں کوئی دھرتا ہی نہیں ہے
ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے انسان ہے وہ تو
تم نے اسے شبنمؔ کبھی ڈھونڈا ہی نہیں ہے
غزل
منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے
شبنم شکیل

