EN हिंदी
مکاں بھر ہم کو ویرانی بہت ہے | شیح شیری
makan-bhar hum ko virani bahut hai

غزل

مکاں بھر ہم کو ویرانی بہت ہے

عباس تابش

;

مکاں بھر ہم کو ویرانی بہت ہے
مگر یہ دل کہ سیلانی بہت ہے

ہمارے پاؤں الٹے ہیں سو ہم کو
پلٹ جانے میں آسانی بہت ہے

ستارے چور آنکھوں سے نہ دیکھیں
زمیں پر میری نگرانی بہت ہے

ابھی سوکھی نہیں مٹی کی آنکھیں
ابھی دریاؤں میں پانی بہت ہے

عجب سی شرط ہے یہ زندگی بھی
جو منوائی ہے کم مانی بہت ہے

ضرورت ہی نہیں دشمن کی تابشؔ
مجھے میری تن آسانی بہت ہے