EN हिंदी
میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا | شیح شیری
main wo shaer hun jo shahon ka sana-KHwan na hua

غزل

میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا

احمد ندیم قاسمی

;

میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا
یہ ہے وہ جرم جو مجھ سے کسی عنواں نہ ہوا

اس گنہ پر مری اک عمر اندھیرے میں کٹی
مجھ سے اس موت کے میلے میں چراغاں نہ ہوا

کل جہاں پھول کھلے جشن ہے زخموں کا وہاں
دل وہ گلشن ہے اجڑ کر بھی جو ویراں نہ ہوا

آنکھیں کچھ اور دکھاتی ہیں مگر ذہن کچھ اور
باغ مہکے مگر احساس بہاراں نہ ہوا

یوں تو ہر دور میں گرتے رہے انسان کے نرخ
ان غلاموں میں کوئی یوسف کنعاں نہ ہوا

میں خود آسودہ ہوں کم کوش ہوں یا پتھر ہوں
زخم کھا کے بھی مجھے درد کا عرفاں نہ ہوا

ساری دنیا متلاطم نظر آتی ہے ندیمؔ
مجھ پہ اک طنز ہوا روزن زنداں نہ ہوا