میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیے
یہ حسیں مل جائیں دو دن کے لئے
وعدۂ فردا کے سچے مل گئے
اب اٹھا رکھوں میں کس دن کے لئے
کل کے وعدے پر نہ دے وہ مے فروش
جس نے توڑے ہم سے گن گن کے لئے
قورمہ مرغ سحر کا وصل میں
بھیج دیتا ہوں موذن کے لئے
یہ نہ کہنے کو ہو بے گنتی دیئے
میں نے بوسے ان کے گن گن کے لیے
منہ جھلسنے کو خزاں کا عندلیب
آشیاں میں بیٹھے ہیں تنکے لئے
مے کشو واعظ مرے سر ہو گیا
کوئی تدبیر اس پڑھے جن کے لیے
یہ ریاضؔ ان کے بہت تھے منہ لگے
اٹھ رہا کیا آج کچھ دن کے لیے
غزل
میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیے
ریاضؔ خیرآبادی

