EN हिंदी
میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیے | شیح شیری
main uTha rakkhun na kuchh in ke liye

غزل

میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیے

ریاضؔ خیرآبادی

;

میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیے
یہ حسیں مل جائیں دو دن کے لئے

وعدۂ فردا کے سچے مل گئے
اب اٹھا رکھوں میں کس دن کے لئے

کل کے وعدے پر نہ دے وہ مے فروش
جس نے توڑے ہم سے گن گن کے لئے

قورمہ مرغ سحر کا وصل میں
بھیج دیتا ہوں موذن کے لئے

یہ نہ کہنے کو ہو بے گنتی دیئے
میں نے بوسے ان کے گن گن کے لیے

منہ جھلسنے کو خزاں کا عندلیب
آشیاں میں بیٹھے ہیں تنکے لئے

مے کشو واعظ مرے سر ہو گیا
کوئی تدبیر اس پڑھے جن کے لیے

یہ ریاضؔ ان کے بہت تھے منہ لگے
اٹھ رہا کیا آج کچھ دن کے لیے