EN हिंदी
میں تو ہر لمحہ بدلتے ہوئے موسم میں رہوں | شیح شیری
main to har lamha badalte hue mausam mein rahun

غزل

میں تو ہر لمحہ بدلتے ہوئے موسم میں رہوں

رئیس فروغ

;

میں تو ہر لمحہ بدلتے ہوئے موسم میں رہوں
کوئی تصویر نہیں جو ترے البم میں رہوں

گھر جو آباد کیا ہے تو یہ سوچا میں نے
تجھ کو جنت میں رکھوں آپ جہنم میں رہوں

تو اگر ساتھ نہ جائے تو بہت دور کہیں
دن کو سورج کے تلے رات کو شبنم میں رہوں

جی میں آتا ہے کسی روز اکیلا پا کر
میں تجھے قتل کروں پھر ترے ماتم میں رہوں