EN हिंदी
میں تو اپنے آپ کو پہچاننا ہی چاہتا ہوں | شیح شیری
main to apne aapko pahchanna hi chahta hun

غزل

میں تو اپنے آپ کو پہچاننا ہی چاہتا ہوں

مدحت الاختر

;

میں تو اپنے آپ کو پہچاننا ہی چاہتا ہوں
جانتا جو کچھ نہیں وہ جاننا ہی چاہتا ہوں

سو فرشتے لے کے میرے پاس آئیں جو صحیفہ
اس کو اپنی چھلنیوں میں چھاننا ہی چاہتا ہوں

سیکڑوں سورج کھڑے ہیں آئینہ در دست لیکن
سر پہ ظلمت کی ردا میں تاننا ہی چاہتا ہوں

جو مرے موجود میں ہے اور لا موجود میں
جان سکتا ہی نہیں اور جاننا ہی چاہتا ہوں

میں جو دشمن کے بلاوے پر نکل آیا ہوں مدحتؔ
بر سر میدان میں کچھ ٹھاننا ہی چاہتا ہوں