میں تو اپنے آپ کو پہچاننا ہی چاہتا ہوں
جانتا جو کچھ نہیں وہ جاننا ہی چاہتا ہوں
سو فرشتے لے کے میرے پاس آئیں جو صحیفہ
اس کو اپنی چھلنیوں میں چھاننا ہی چاہتا ہوں
سیکڑوں سورج کھڑے ہیں آئینہ در دست لیکن
سر پہ ظلمت کی ردا میں تاننا ہی چاہتا ہوں
جو مرے موجود میں ہے اور لا موجود میں
جان سکتا ہی نہیں اور جاننا ہی چاہتا ہوں
میں جو دشمن کے بلاوے پر نکل آیا ہوں مدحتؔ
بر سر میدان میں کچھ ٹھاننا ہی چاہتا ہوں
غزل
میں تو اپنے آپ کو پہچاننا ہی چاہتا ہوں
مدحت الاختر

