میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیا
انسانیت کو دیکھ کے انساں کیا گیا
اب میرے امتحان کا ساماں کیا گیا
یعنی سپرد عالم امکاں کیا گیا
محفوظ میں نے رکھے جنوں کے تبرکات
دامن اگر پھٹا تو گریباں کیا گیا
طے کر کے ارتقا کے منازل کو شوق سے
پہنچا جب اپنے حد پہ تو انساں کیا گیا
سچ پوچھئے تو کیا تھا فقط ایک خار زار
میرے لئے جہاں کو گلستاں کیا گیا
دریا تو اور بھی تھے زمانے میں بے شمار
آب حیات چشمۂ حیواں کیا گیا
کچھ اور روشنی کا بڑھا حسن یا نہیں
فانوس میں جو شعلے کو پنہاں کیا گیا
غزل
میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیا
میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

