EN हिंदी
میں سطح شعر پہ ابھرا ہوں آفتاب لیے | شیح شیری
main sath-e-sher pe ubhra hun aaftab liye

غزل

میں سطح شعر پہ ابھرا ہوں آفتاب لیے

نیاز حسین لکھویرا

;

میں سطح شعر پہ ابھرا ہوں آفتاب لیے
خلوص فکر شعور نظر کے خواب لیے

سخن شناس بھی ہے فن سے آشنا بھی ہے
وہ کل ملا تھا مجھے فیض کی کتاب لیے

سکون جسم تو حاصل کبھی ہوا ہی نہیں
میں جی رہا ہوں تری قربتوں کے خواب لیے

جھلس رہا ہے جوانی کی لو میں میرا بدن
تری تلاش میں ہوں گرمئی شباب لیے

نظر اٹھا کہ ترے روبرو میں ٹھہرا ہوں
نیاز و ناز کے مہکے ہوئے گلاب لیے