EN हिंदी
میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں | شیح شیری
maine roka bhi nahin aur wo Thahra bhi nahin

غزل

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں

اسلم انصاری

;

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں

جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں

کون سا موڑ ہے کیوں پاؤں پکڑتی ہے زمیں
اس کی بستی بھی نہیں کوئی پکارا بھی نہیں

بے نیازی سے سبھی قریۂ جاں سے گزرے
دیکھتا کوئی نہیں ہے کہ تماشا بھی نہیں

وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں

کس کو نیرنگئ ایام کی صورت دکھلائیں
رنگ اڑتا بھی نہیں نقش ٹھہرتا بھی نہیں

یا ہمیں کو نہ ملا اس کی حقیقت کا سراغ
یا سر پردۂ عالم میں کوئی تھا بھی نہیں