EN हिंदी
میں نے کیا کام لا جواب کیا | شیح شیری
maine kya kaam la-jawab kiya

غزل

میں نے کیا کام لا جواب کیا

اعجاز عبید

;

میں نے کیا کام لا جواب کیا
اس کو عالم میں انتخاب کیا

کرم اس کے ستم سے بڑھ کر تھے
آج جب بیٹھ کر حساب کیا

کیسے موتی چھپائے آنکھوں میں
ہائے کس فن کا اکتساب کیا

کیسی مجبوریاں نصیب میں تھیں
زندگی کی کہ اک عذاب کیا

ساتھ جب گرد کوئے یار رہی
ہر سفر ہم نے کامیاب کیا

کچھ ہمارے لکھے گئے قصے
بارے کچھ داخل نصاب کیا

کیا عبیدؔ اب اسے میں دوں الزام
اپنا خانہ تو خود خراب کیا