میں نے اپنی موت پہ اک نوحہ لکھا ہے
تم کو سناتا ہوں دیکھو کیسا لگتا ہے
جسم کو کر ڈالا ہے خواہش کا ہرکارہ
چہرے پر مصنوعی وقار سجا رکھا ہے
سونی کر ڈالی ہے بستی خواب نگر کی
کل تک جو دریا بہتا تھا خشک ہوا ہے
ہونٹوں سے زنجیر خموشی باندھ رکھی ہے
طاق امید پہ دل کا چراغ بجھا رکھا ہے
نیند سے بوجھل پلکوں پر اندیشۂ مٹی
کشتیٔ جاں کے ڈوبنے کا لمحہ آیا ہے

غزل
میں نے اپنی موت پہ اک نوحہ لکھا ہے
جمال اویسی