EN हिंदी
میں نے اپنی موت پہ اک نوحہ لکھا ہے | شیح شیری
maine apni maut pe ek nauha likkha hai

غزل

میں نے اپنی موت پہ اک نوحہ لکھا ہے

جمال اویسی

;

میں نے اپنی موت پہ اک نوحہ لکھا ہے
تم کو سناتا ہوں دیکھو کیسا لگتا ہے

جسم کو کر ڈالا ہے خواہش کا ہرکارہ
چہرے پر مصنوعی وقار سجا رکھا ہے

سونی کر ڈالی ہے بستی خواب نگر کی
کل تک جو دریا بہتا تھا خشک ہوا ہے

ہونٹوں سے زنجیر خموشی باندھ رکھی ہے
طاق امید پہ دل کا چراغ بجھا رکھا ہے

نیند سے بوجھل پلکوں پر اندیشۂ مٹی
کشتیٔ جاں کے ڈوبنے کا لمحہ آیا ہے