EN हिंदी
میں نہیں روتا ہوں اب یہ آنکھ روتی ہے مجھے | شیح شیری
main nahin rota hun ab ye aankh roti hai mujhe

غزل

میں نہیں روتا ہوں اب یہ آنکھ روتی ہے مجھے

شہرام سرمدی

;

میں نہیں روتا ہوں اب یہ آنکھ روتی ہے مجھے
روتی ہے اور سر سے پاؤں تک بھگوتی ہے مجھے

بد دعا ہے جانے کس کی یاد کی جو ہر گھڑی
ہر گزشتہ لمحے سے وحشت سی ہوتی ہے مجھے

ممکنہ حد تک میں اپنی دسترس میں ہوں مگر
پچھلے کچھ دن سے کوئی شے مجھ میں کھوتی ہے مجھے

مطمئن تھا دن کے بکھراؤ سے میں لیکن یہ رات
دانہ دانہ پھر عجب ڈھب سے پروتی ہے مجھے

میں بہت مشاق اک تیراک تھا لیکن وہ آنکھ
دیکھ اب مع کشتیٔ جاں کے ڈبوتی ہے مجھے