میں نہ سمجھا بلبل بے بال و پر نے کیا کہا
گوش گل میں قاصد باد سحر نے کیا کہا
نزع کے دم بھی زبس لیلیٰ کو مانع تھا حجاب
چپکے چپکے روئی اور اس نوحہ گر نے کیا کہا
تیرے وحشی سے عبث تجھ کو خفا کرتے ہیں لوگ
سب یہ باتیں جھوٹھ تھیں اس بے خبر نے کیا کہا
سینکڑوں رنگینیاں پیدا کیں اس نے وقت قصد
خوں مجنوں سے زباں شیر نے کیا کہا
نامہ بر کو گالیاں دیں اس نے سن کر میرا نام
منہ کو تکتا رہ گیا اور نامہ بر نے کیا کہا
ہو گیا اس کو پہن کر اور بھی مغرور وہ
کان میں اس شوخ کے سلک گہر نے کیا کہا
جوڑنا ان کا نہایت اے ہوسؔ دشوار تھا
دل کے ٹکڑے دیکھ میرے شیشہ گر نے کیا کہا
غزل
میں نہ سمجھا بلبل بے بال و پر نے کیا کہا
مرزا محمد تقی ہوسؔ

