EN हिंदी
میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا | شیح شیری
main KHud hi KHugar-e-KHalish-e-justuju na tha

غزل

میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا

گوہر ہوشیارپوری

;

میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا
دشوار ورنہ مرحلۂ آرزو نہ تھا

ناحق خراب منت درماں ہوا نہ درد
ممنون زخم ہوں کہ مقام رفو نہ تھا

یا آشنائے رمز طلب ہی نہ تھی زباں
لب وا ہوئے تو حوصلۂ گفتگو نہ تھا

نا‌ پرسش وفا کی یہ نوبت کبھی نہ تھی
دل یوں سلوک اہل کرم سے لہو نہ تھا

ہاں کب بنام عشق ہوس سرخ رو نہ تھی
ہاں کب نیاز شوق سبک کو بہ کو نہ تھا

خوش فہمیٔ خیال کی اب ضد کا کیا علاج
ورنہ جو شام پاس سے گزرا تھا تو نہ تھا

گوہرؔ غزل سے دھل تو گیا کچھ غبار غم
ہر چند یہ ہنر سبب آبرو نہ تھا