EN हिंदी
میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے | شیح شیری
main KHud bhi sochta hun ye kya mera haal hai

غزل

میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے

جاوید اختر

;

میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے
جس کا جواب چاہئے وہ کیا سوال ہے

گھر سے چلا تو دل کے سوا پاس کچھ نہ تھا
کیا مجھ سے کھو گیا ہے مجھے کیا ملال ہے

آسودگی سے دل کے سبھی داغ دھل گئے
لیکن وہ کیسے جائے جو شیشے میں بال ہے

بے دست و پا ہوں آج تو الزام کس کو دوں
کل میں نے ہی بنا تھا یہ میرا ہی جال ہے

پھر کوئی خواب دیکھوں کوئی آرزو کروں
اب اے دل تباہ ترا کیا خیال ہے