EN हिंदी
میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیا | شیح شیری
main kaha bolna shab ghair se tha tumko kya

غزل

میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیا

مرزا محمد تقی ہوسؔ

;

میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیا
مسکرا کہنے لگا شوق مرا تم کو کیا

جو کہا میں کہ برے طور نکالے تم نے
پھیر کر منہ کو لگا کہنے بھلا تم کو کیا

شکوہ اس بت کے جفا کا جو کیا میں تو کہا
تم تو دنیا میں ہو اک اہل وفا تم کو کیا

درد سر دشمنوں کے ان کے ہوا رات سو میں
جوں ہی گھبرا کے یہ پوچھا تو کہا تم کو کیا

تان کر منہ پہ دوپٹہ بہ دم سرد کہا
تم لگے پوچھنے کیوں حال مرا تم کو کیا

ہر گھڑی تم جو ملامت مجھے کرتے ہو ہوسؔ
آپ میں دام محبت میں پھنسا تم کو کیا