EN हिंदी
میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیں | شیح شیری
main kab se kitna hun tanha tujhe pata bhi nahin

غزل

میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیں

جاوید اختر

;

میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیں
ترا تو کوئی خدا ہے مرا خدا بھی نہیں

کبھی یہ لگتا ہے اب ختم ہو گیا سب کچھ
کبھی یہ لگتا ہے اب تک تو کچھ ہوا بھی نہیں

کبھی تو بات کی اس نے کبھی رہا خاموش
کبھی تو ہنس کے ملا اور کبھی ملا بھی نہیں

کبھی جو تلخ کلامی تھی وہ بھی ختم ہوئی
کبھی گلہ تھا ہمیں ان سے اب گلہ بھی نہیں

وہ چیخ ابھری بڑی دیر گونجی ڈوب گئی
ہر ایک سنتا تھا لیکن کوئی ہلا بھی نہیں