EN हिंदी
میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں | شیح شیری
main jab wajud se hote hue guzarta hun

غزل

میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں

انجم سلیمی

;

میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں
خود اپنے آپ پہ روتے ہوئے گزرتا ہوں

اسی لیے تو مجھے تو دکھائی دیتا نہیں
میں تیرے خواب سے سوتے ہوئے گزرتا ہوں

گلہ گزار دلوں سے مرا گزر ہے میاں
میں موتیوں کو پروتے ہوئے گزرتا ہوں

وہی زمانہ مری راہ روک لیتا ہے
میں جس زمانے سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں

تری گلی سے بھی ہو آؤں اور پتہ نہ چلے
جبیں کے داغ کو دھوتے ہوئے گزرتا ہوں