میں ہوں یا تو ہے خود اپنے سے گریزاں جیسے
مرے آگے کوئی سایہ ہے خراماں جیسے
تجھ سے پہلے تو بہاروں کا یہ انداز نہ تھا
پھول یوں کھلتے ہیں جلتا ہو گلستاں جیسے
یوں تری یاد سے ہوتا ہے اجالا دل میں
چاندنی میں چمک اٹھتا ہے بیاباں جیسے
دل میں روشن ہیں ابھی تک ترے وعدوں کا چراغ
ٹوٹتی رات کے تارے ہوں فروزاں جیسے
تجھے پانے کی تمنا تجھے کھونے کا یقیں
تیرے گیسو مرے ماحول میں غلطاں جیسے
وقت بدلا پہ نہ بدلا مرا معیار وفا
آندھیوں میں سر کہسار چراغاں جیسے
اشک آنکھوں میں چمکتے ہیں تبسم بن کر
آ گیا ہاتھ ترا گوشۂ داماں جیسے
تجھ سے مل کر بھی تمنا ہے کہ تجھ سے ملتا
پیار کے بعد بھی لب رہتے ہیں لرزاں جیسے
بھری دنیا میں نظر آتا ہوں تنہا تنہا
مرغزاروں میں کوئی قریۂ ویراں جیسے
غم جاناں غم دوراں کی طرف یوں آیا
جانب شہر چلے دختر دہقاں جیسے
عصر حاضر کو سناتا ہوں اس انداز میں شعر
موسم گل ہو مزاروں پہ گل افشاں جیسے
زخم بھرتا ہے زمانہ مگر اس طرح ندیمؔ
سی رہا ہو کوئی پھولوں کے گریباں جیسے
غزل
میں ہوں یا تو ہے خود اپنے سے گریزاں جیسے
احمد ندیم قاسمی

