EN हिंदी
میں ہوا کو منجمد کر دوں تو کیسے سانس لوں | شیح شیری
main hawa ko munjamid kar dun to kaise sans lun

غزل

میں ہوا کو منجمد کر دوں تو کیسے سانس لوں

رفیق سندیلوی

;

میں ہوا کو منجمد کر دوں تو کیسے سانس لوں
ریت پر گر جاؤں اور پھر اکھڑے اکھڑے سانس لوں

کب تلک روکے رکھوں میں پانیوں کی تہہ میں سانس
کیوں نہ اک دن سطح دریا سے نکل کے سانس لوں

قلعۂ کہسار پر میں رکھ تو دوں زریں چراغ
لیکن اتنی شرط ہے کہ اس کے بدلے سانس لوں

خواب کے متروک گنبد سے نکل کر ایک دن
اپنی آنکھیں کھول دوں اور لمبے لمبے سانس لوں