EN हिंदी
میں ایک عمر کے بعد آج خود کو سمجھا ہوں | شیح شیری
main ek umr ke baad aaj KHud ko samjha hun

غزل

میں ایک عمر کے بعد آج خود کو سمجھا ہوں

محسن احسان

;

میں ایک عمر کے بعد آج خود کو سمجھا ہوں
اگر رکوں تو کنارا چلوں تو دریا ہوں

جو لب کشا ہوں تو ہنگامۂ بہار ہوں میں
اگر خموش رہوں تو سکوت صحرا ہوں

تجھے خبر بھی ہے کچھ اے مسرتوں کے نقیب
میں کب سے سایۂ دیوار غم میں بیٹھا ہوں

جھلس گئی ہے ہوائے دیار‌ درد مجھے
بس ایک پل کے لئے شہر غم میں ٹھہرا ہوں

مری خودی میں نہاں ہے مرے خدا کا وجود
خدا کو بھول گیا جب سے خود کو سمجھا ہوں

میں اپنے پاؤں کا کانٹا میں اپنے غم کا اسیر
مثال سنگ گراں راستے میں بیٹھا ہوں

بلندیوں سے مری سمت دیکھنے والے
مرے قریب تو آ میں بھی ایک دنیا ہوں

اگر ہے مقتل جاناں کا رخ تو اے محسنؔ
ذرا ٹھہر کہ ترے ساتھ میں بھی چلتا ہوں